کیا ھماری دھرتی 29 اپریل 2020 کو ختم ہونے والی ہے

0
8

کیا 29 اپریل 2020 کو ایک بہت ہی بڑے ایسٹروئڈ کے ٹکرانے سے ہماری دھرتی ختم ہونے والے ہے۔ اور دھرتی کے ساتھ ساتھ یہاں بسے انسان بہی ختم ہوجائیں گے۔ کچھ ایسے ہی خبریں آپ کو سوشل میڈیا پر بہت ہی تیزی سے وائرل ہوں رہیں ہیں ویسے اس سال کے شروعات سے ہی ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن اس ایسٹروئڈ کو زمین سے ٹکرانے کی باتوں میں کتنے سچائی ہے آج ہم اسکو اسٹیپ بائے اسٹیپ جاننے کی کوشش کریں گے۔

یہ خبر سب سے پہلے ایک انگلش نیوز آرٹیکل میں پوسٹ کی گئی جس میں کہا گیا 29 اپریل کو 1998 or2 نام کا ایک ایسٹروئڈ دھرتی سے ٹکرا سکتا ہے۔ اب جس ایسٹروئڈ کے بارے میں سب ہی لوگ بات کر رہیں ہیں۔ اس ایسٹروئڈ پر سائنٹسٹ آج سے نہیں بلکہ پچھلے 20 سالوں سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ اسے سال 1998 میں ڈھونڈا گیا تھا۔ اور اس ایسٹروئڈ کے بارے میں سائنٹسٹ کو بہت سی معلومات پہلے سے ہی موجود ہے۔ جیسا کے اس ایسٹروئڈ کی سائز 4۔1 کلو میٹر کے آس پاس ہے جو لگ بھگ پانچھ برج خلیفہ بلڈنگز یا پہر مائونٹ ایورسٹ دے آدہے جتنا ہے۔ اور یہ ایسٹروئڈ اب 31000 کلو میٹر فی گھنٹہ کی اسپیڈ سے آرہا ہے۔ یعنی دنیا کا سب سے تیز رفتار لڑاکا طیارے کی رفتار 7024 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ مطلب یہ ایسٹروئڈ اس تیز ترین ہوائی جہاز سے بھی 4 گنا زیادہ تیزی سے آرہاہے۔ اب اگر آدھا مائونٹ ایورسٹ یا پانچھ برج خلیفہ بلڈنگز تیزی سے ایک ساتھ گریں تو ظاھر سی بات ہے تباہی ہونا تو ممکن ہے۔ یہ ایسٹروئڈ جتنا چہوٹا یا بڑا ہو۔ بات یہ ہے کہ یہ ایسٹروئڈ دھرتی سے ٹکرائے گا بھی کہ نہیں۔ یہ ہم بلاوجہ ہم ان خبروں سے ڈر رہے ہیں۔ اب اگر سچائی جاننے ہے تو اس کے لئے ہمیں کچھ آفیشل ریپورٹس پر نظر ڈالنے ہوگی ایسٹوئڈ واچ کے آفیشل ٹویٹر اکائوٹ پر نظر ڈالیں تو ان سے ملے انفارمیشن کے مطابق 29 اپریل کو یہ ایسٹروئڈ دھرتی سے دوری تکریبن 62 لاکھ کلو میٹرس ہوگی جب یہ ہمارے پاس سے گزرے گا۔ چاند سے ہمارے دہرتی کا مفاصلہ 3,84,400 کلو میٹر ہے مطلب یہ دہرتی کے قریب سے جائے کا تب اس کی دوری دہرتی سے چاند دوری سے بہی 16× گنا زیادہ ہوگی۔ اب اس سے آپ سمجھ ہی سکتے ہو کہ یہ فاصلہ کتنا زیادہ ہے۔ چاند کے حصاب سے۔ اب ان باتوں سے آپ کا مائینڈ کلیئر ہو گیا ہوگا کہ یہ ایسٹروئڈ دھرتی سے بلکل بھی نہیں ٹکرائے گا۔ بلکہ 29 اپریل کو دھرتی کے قریب سے گزر جائے گا اور کچھ نہیں۔ لیکن اگر کوئی بڑے سائز کا ایسٹروئڈ دھرتی سے ٹکرا جاتا ہے تو اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔ اس کا تو ماضی گواھ ہے۔ کیونکہ ایک بڑے ایسٹروئڈ نے آج سے کروڑوں سال پہلے ڈائناسورس کو دھرتی سے پوری طرح مٹا دیا تھا۔ تو ایک ایسٹروئڈ ڈائناسور جیسے بڑے جانوروں کو ختم کر سکتا ہے۔ تو ان ایسٹروئڈ کے لئے دھرتی سے انسانوں کا خاتمہ کرنا کوئی بڑے بات نہیں ہے۔ کیونکہ ہم جتنا بھی ٹیکنولوجی میں ایڈوانس ہو جائیں۔ لیکن اسپیس سے آنے والی آفتوں کو ہم روک نہیں سکتے۔ لیکن اگر 29 اپریل کی بات کریں تو ہم پوری طرح محظوظ ہیں۔ اکسر کئی چہوٹے موٹے آتے رہتے ہیں کئی زمین سے دور چلے جاتے ہیں۔ تو کئی دھرتی کے سرفیس میں گھس جاتے ہیں۔ جیسا کہ 2013 میں ایک ایسٹروئڈ میں بھی گرا تھا جس نے زمین میں ایک بہت بڑا گڈھا بنا لیا تھا۔ اگر یہ ایسٹروئڈ دہرتی سے ٹکرا جاتا تو آپ سب کو پتہ ہی یہ کہ اس دھرتی پر انسانوں کی تعداد 700 کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here